جگنو کیسے ہر بچے کے لیے امیدیں لا رہا ہے
تعلیم، دیکھ بھال اور بہتر مواقع کے ذریعے بچوں کی زندگیاں بدلنے کی ایک کوشش۔
ضروری نہیں کہ ہر کہانی ایک حادثے یا معجزے سے شروع ہو, یاں پھر اس کا کسی اربوں ڈالر کے بجٹ سے انتخاب ہو، کچھ کہانیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ایک یتیم بچے سے شروع ہوتی ہیں جو حالات کے بوجھ تلے زندگی کی سادہ دؤڑ میں ہزاروں میل پیچھے رہ گیا ہو۔
ذرا تصور کریں، کراچی کا ایک 14 سالہ بچہ اسکول کے باہر کھڑا ہاتھ میں چنے کا تھال لیے اسکول کے دروازے کو حسرت کی نگاہ سے تک رہا ہے کہ کب بچے باہر ائیں گے اور دس دس روپے کے چنے خریدیں گے تاکہ وہ اپنی اکیلی ماں کی دوائی لے سکے، اب ذرا اس بچے کو چار ماہ بعد دیکھیں ایک یقین کے ساتھ بات کرتے ہوئے زندگی کی دوڑ میں شامل ہوتے ہوئے، مسائل کو حل کرتے ہوئے، ڈیجیٹل ٹولز استعمال کرتے ہوئے ، اور شاید پہلی بار یہ محسوس کرتے ہوئے کہ روشن مستقبل اس کے انتظار میں ہے،
اب اس سارے تصور کو گمان کی نظر سے نہیں بلکہ یقین کی نظر سے دیکھے، نہیں آیا نا یقین؟ مگر یہ حقیقت ہے, کیونکہ یہ وہی بچہ ہے جو اس وقت اسکول کے باہر چنے کا تھال ہاتھ میں لیے کھڑا تھا اور اج اسی ہاتھ میں قلم لیے یہ ایک ارٹیکل لکھ رہا ہے - یہی تبدیلی جگنو کی اصل کامیابی ہے جو کہ اس وقت بھی پاکستان کے ہر کونے میں اپ کی توقع سے زیادہ تیزی سے ہو رہی ہے ۔ جگنو کوئی آسمانی تنظیم نہیں ہے جو مستقبل کے وعدے کرتی ہو مگر یہ آج کے وقت میں بھی ہزاروں زندگیاں بدلنے میں مصروف ہے جو کے ایک سادہ مگر انقلابی نظریے پر قائم ہے۔ جگنو نوجوانوں کو مستقبل کے لیے ان راستوں سے اگاہ کر رہی ہے جو اندھیرے میں روشنی کا ذریعہ ہے،
وہ ہنگامی صورتحال جس پر کوئی بات نہیں کرتا
پاکستان میں تقریبا 7 کروڑ بچے ایسے ہیں جو اسکول سے محروم ہیں ، تعلیم سے انجان ہیں رسمی تعلیمی نظام سے بہت دور ہیں یہ تعداد تقریبا کسی ملک کی پوری آبادی کے برابر ہے ، جیسے کہ فرانس، تھائی لینڈ، تنزانیا، صرف کراچی ہی میں تقریبا 18 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے جو ملک میں ایک سب سے بڑی تعداد ہے خاص طور پر کراچی ویسٹ ملیر اور کورنگی جیسے علاقے اس بُحران میں سب سے زیادہ متاثر ہیں، یہ صرف ایک مسئلہ نہیں ہے، اور روایتی اور سماجی حل اب کافی نہیں ہے پاکستان کی ایک بڑی تعلیمی این جی او نے 30 سال کی جدوجہد میں صرف تقریبا 2 ہزار اسکول بنائے اور صرف 4 لاکھ بچوں تک پہنچ پائے جبکہ باقی بچوں تک پہنچنے کے لیے ملک کو مزید تقریبا 130000 اسکول درکار ہوں گے، کوئی بھی ملک اتنی تیزی سے اسکول نہیں بنا سکتا خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ایسی محرومی کو لوگ عام نظر سے دیکھتے ہو یا پھر جہاں ایسے بچے رہتے ہوں، مگر جگنو نے اس حقیقت کو پہچانا اور اس مسئلے سے نظریں نہیں چرائی۔
ایک ایسا توسیح پذیر حل جسے پہلے کسی نے نہیں آزمایا
اگر ہم ہر بچے کو اسکول نہیں بھیج سکتے تو ہم اسکول کی مہارتیں بچے تک پہنچا سکتے ہیں، جیسے نئے سکول بنانے کے بجائے جگنو شام تین بجے کے بعد خالی کلاس رومز استعمال کرتا ہے جہاں پرانے نصاب کی جگہ یہ بچوں کو عملی اور جدید مہارتیں سکھاتی ہے جیسے ، کمیونیکیشن ڈیجیٹل لٹریسی مالیاتی شعور سالوں انتظار کرنے کے بجائے جگنو صرف چار ماہ کے منظم پروگرام کے ذریعے حقیقی تبدیلی لاتی ہے جو روزانہ چار گھنٹے جاری رہتا ہے ہر کلاس میں صرف 25 طلبہ ہوتے ہیں تاکہ توجہ برقرار رہے اور ماڈل تیزی سے پھیل بھی سکے 2030 تک ایک کروڑ طلبہ کو یہ ساری مہارتیں سکھانا جگنو کا مقصد ہے، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس خواب کے ساتھ ایک واضح منصوبہ بھی موجود ہے،
جگنو کیسے کام کرتی ہے اور کیوں کامیاب ہے
موجودہ کلاس رومز کو جدید ٹیکنالوجی اور تعلیمی سہولیات سے اراستہ کرنا بہترین اساتذہ کی خدمات حاصل کرنا، صرف ٹیکنالوجی کا ہنر نہیں بلکہ تربیت یافتہ اور پر عزم معلمین بھی اسکولوں کے ساتھ شراکت داری کر کے شام کے وقت خالی کلاس روم استعمال کرنا طلبہ کو چار ماہ کے نصاب کے ذریعے خود اعتمادی خودمختاری اور روزگار کے قابل مہارتیں سکھانا، پروگرام مکمل ہونے کے بعد ملازمت اور انٹرنشپ تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنا، ایک سال تک ہر طالب علم کی کارکردگی پر نظر رکھنا تاکہ تبدیلی مستقل رہے یہ صرف ماڈرن ٹیکنالوجی سکھانے تک کی بات نہیں ہے، یہ ایک مکمل نظام ہے جس کو مکمل کرنا جگنو نے اپنے اپ پر فرض سمجھا ہے،
ایسی کامیابی جس سے ناپا جا سکتا ہے
جگنو کا ماڈل دو بنیادی اصولوں پر قائم ہے،
1: مکمل شفافیت
2: مکمل سچائی
ہر طالب علم کا انتخاب ایک اہم نظریے کے حساب سے کیا جاتا ہے جس میں معاشی حالات خاندانی تعاون اور تعلیم چھوڑنے کی وجوہات کو دیکھا جاتا ہے، کوئی سفارش جان پہچان یا کوشش اور فیصلہ سازی نہیں ہوتی۔ پورے پروگرام کے دوران جگنو کچھ خاص چیزوں پر نظر رکھتا ہے جیسے،
1 : ہفتہ وار پیش رفت رپورٹس
2 : ڈیٹا پر مبنی جائزے
3 : مسلسل فیڈ بیک سسٹم تاکہ ہر نئی کلاس پچھلی سے بہتر ہو
ان بچوں کے لیے جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں
جگنو سب سے پہلے کراچی کے ان علاقوں پر توجہ دیتی ہے جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہے جیسے کراچی ویسٹ کورنگی اور ملیر کیونکہ اصل تبدیلی وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں ضرورت سب سے زیادہ شدید ہو، پروگرام پیر سے جمعہ تک شام تین بجے سے سات بجے تک چلتا ہے تاکہ وہ بچے بھی شامل ہو سکیں جو دن میں کام کرتے ہیں یا گھر والوں کی مدد کرتے ہیں یہ پروگرام بچوں کی حقیقت کے مطابق بنایا گیا ہے نہ کہ ایسے نظام کے مطابق جس نے انہیں بھلا دیا ہو۔
اس تحریک کے پیچھے موجود لوگ
اتنی بڑی تبدیلی صرف جذبے سے نہیں اتی اور نہ ہی صرف فقط خالی خیال سے، اس کے لیے ایسے لوگ درکار ہوتے ہیں جو ان بچوں کی زندگی کو سمجھتے ہوں اور مستقبل کی ضروری مہارتوں سے بھی واقف ہوں۔
جگنو کی ٹیم میں شامل ہیں معروف اداروں کے پرنسپلز اور سینیئر اساتذہ. یونیورسٹی پروفیسرز اور پروگرام مینیجرز . اسٹارٹ اپ بانی . کینیڈا کے یونائٹڈ نیشن اسوسییشن کے رضاکار. کراچی کی جامعات کے نوجوان انسٹرکٹرز.
یہی تجربہ اور خلوص جگنو کی اصل طاقت ہے صرف 3000$ ڈالر میں 100 زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو اندازہ نہیں کہ ان کی مدد کتنی دور تک جا سکتی ہے اور کتنے گھروں کو روشن کر سکتی ہے جو تعلیم اور شعور سے سینکڑوں سالوں سے محروم ہے۔ صرف 3000$ ڈالر میں ایک ڈونر 100 طلبہ کی مکمل چار ماہ کی تعلیم اسپانسر کر سکتا ہے جس میں شامل ہیں ۔ 1 : ٹیکنالوجی 2 : تعلیمی مواد 3: اخلاقیات اور شخصیت 3 : گفتگو کے طور طریقے 4 : جاب پلیسمنٹ سپورٹ
یہ صرف خیرات نہیں، بلکہ انسانیت کی رہنمائی اور رہبری کے لیے بہت بڑا قدم ہے۔
جگنو آج کیوں اہم ہے؟
پاکستان ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے ملک کی تقریبا ادھی آبادی 15 سال سے کم عمر ہے، یہ نوجوان نسل یا تو ملک کی طاقت بن سکتی ہے یا بڑا بُحران، جگنو اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ یہ نسل ملک کی طاقت بنے، آج کے دور میں مہارتیں صرف ایک اضافی چیز نہیں رہی یہ بقا ، عزت اور آزادی کا ذریعہ ہے جہاں انسان اپنے مستقبل کی فکر سے آزاد ہو سکتا ہے، جگنون بچوں کو خود مختار، پُراعتماد اور قابل روزگار پاکستانی بنا رہی ہے جو کبھی معاشرے کی نظروں سے اوجھل تھے، اب وہ جگنو کی طرح چمکنا سیکھ رہے ہیں کیونکہ بعض اوقات کسی بچے کو صرف تھوڑی سی روشنی چاہیے ہوتی ہے تاکہ وہ جان سکے کہ وہ خود بھی چمک سکتا ہے اور انشاءاللہ جگنو کی روشنی ان کو بھٹکنے نہیں دے گی۔
جگنو وہاں مہارت، اعتماد اور مواقع پیدا کر رہا ہے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اس کام کا ساتھ دیں۔ کسی کیمپس کا دورہ کریں۔ مزید نوجوان پاکستانیوں کو وہ تربیت حاصل کرنے میں مدد دیں جو ایک زندگی بدل سکتی ہے۔




