اسلام میں علم اور مہارت کی اخلاقی ذمہ داری
اگر علم اخلاق نہ سکھائے تو کیا وہ واقعی علم ہے؟
اج کی دنیا میں لوگ مہارت کو صرف اچھی نوکری یا کامیابی کے ذریعے سے دیکھتے ہیں , لیکن اسلام مہارت کو اخلاقی ذمہ داری مانتا ہے بقول اسلام کے جتنا انسان زیادہ سیکھتا ہے اتنا ہی اس پر دوسروں کا حق اور خود کے اخلاق اور کردار کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے , یہی فرق اسلام میں علم کی اہمیت کو خاص بناتا ہے.
اسلام انسان کو ایک مختلف نظریے سے دیکھتا ہے , یعنی حقیقت کے نظریے سے , اور وہ حقیقت کا نظریہ انسان کے کردار اور گفتگو سے جنم لیتا ہے جہاں عمل کا دارومدار نیک اور سچی نیت سے ہوتا ہے جہاں اس کی گفتگو کے الفاظ اور اعمال دوسروں پر اثر ڈالتے ہیں اور کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ جتنا وہ سوچتا ہے.
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا.
الفاظ زبان سے نکلنے سے پہلے انسان کے غلام ہوتے ہیں اور زبان سے نکلنے کے بعد انسان ان الفاظوں کا غلام ہوتا ہے.
مہارت کی بات کی جائے تو کوئی بھی مہارت اکیلے پیدا نہیں ہوتی، بولنے کا طریقہ ، برداشت ،سمجھداری اور عقل یہ سب لوگوں کے ساتھ رہتے ہوئےسیکھا جاتا ہے، اسی لیے اسلام علم کو صرف ذاتی ترقی نہیں سمجھتا بلکہ دوسروں کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنے اور پیش انے کو مانتا ہے جس کا رد عمل سامنے والے کے کردار اور اخلاق کو خوبصورت بنانے میں مدد کرتا ہے. اسلام میں علم کا تقاضا اتنا بلند ہے کہ قران کی پہلی وحی یعنی اللہ کی طرف سے حضرت محمد مصطفیﷺ کو بھی پہلا حکم یہی تھا ‘’ پڑھو ‘’ نہ کہ حکومت کرو نہ طاقتور بنو نہ دولت حاصل کرو اور نہ ہی دنیا چھوڑ دو، بلکہ علم کو سب سے پہلے رکھا گیا.
اسلامی روایت میں مہارت کا مطلب صرف ذہانت نہیں تھا مہارت یہ تھی کہ انسان دوسروں کو شرمندہ کیے بغیر بات کرے ،بحث کرے تو تعلقات خراب نہ ہوں ، تجارت کرے تو دھوکہ نہ دے. یہ صرف خوبصورت خیالات نہیں تھے بلکہ روز مرہ زندگی کی ضرورت تھی ،
اسلام میں گفتگو کی اہمیت.
انسان ایک دکان کی مانند ہے اور زبان اس کا تالا ، تالا کھلتا ہے تو پتہ چلتا ہے دکان سونے کی ہے یا لوہے کی.
ایک ابتدائی واقعہ اس بات کو واضح کرتا ہے۔ جب ایک شخص نے سب کے سامنے نبی کریم ﷺ شان میں گستاخی کی تو صحابہؓ نے توقع کی کہ اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے نہایت سکون اور تحمل سے جواب دیا اور معاملہ بغیر کسی ذلت یا لڑائی کے ختم ہوگیا۔ اس طرح وہ توہین اپنی طاقت کھو بیٹھی، لوگ منتشر ہوگئے، اور مزید نقصان ہونے سے بچ گیا۔ یہ سماجی سمجھداری اور اعلیٰ اخلاق کی عملی مثال تھی۔
آج کی جدید تحقیق بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہے جس کی ترویج اسلام نے 1400 سال پہلے کی تھی ۔ اچھی گفتگو اور تعلقات کی مہارت انسان کی ذہنی صحت، شخصیت کی تعمیر، حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت، بہتر کارکردگی اور زندگی کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ صرف ذہانت انسان کو ناکامی سے نہیں بچا سکتی۔ اکثر خراب رویہ اور کمزور تعلقات انسان کی دوسری تمام صلاحیتوں کو بے فیض بنا دیتے ہیں ۔
اسلام کے حوالے سے اختلاف کا رویہ .
اختلاف کے باوجود احترام سے پیش انا کمزوری نہیں بلکہ ایک اعلی کردار کی نشانی ہے .
اسلام یہ بھی مانتا ہے کہ اختلاف ہمیشہ رہے گا ،خاندانوں میں اختلاف ہوگا ، بازاروں میں جھگڑے ہوں گے ، حکمرانوں کو مخالفت کا سامنا ہوگا ، لیکن اصل سوال یہ نہیں ہے کہ اختلاف ہوگا یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اسے کیسے سنبھالا جائے، اس کے لیے ہمیں ہمیشہ علم کی اس مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمیں یہ بتائے کہ
کب خاموش رہنا ہے ،
کب سننا ہے اور کب مضبوطی سے کھڑے رہنا ہے، کیونکہ یہ بھی حکمت اور مہارت ہے.
معاف کرنا اسلام میں کیوں ضروری ہے.
اگر تم اللہ کی محبت اور بخشش چاہتے ہو تو لوگوں کی غلطیوں کو معاف کرنا سیکھو .
اگر لوگ غلطیوں کو معاف نہیں کریں گے تو معاشرہ نفرت ، فساد ،حسد اور دشمنوں سے بھر جائے گا جس کے بعد انسان اپنے علم کا غلط استعمال کر کے چالاکیوں کو جنم دینا شروع کر دے گا اور اپنے غلط فیصلے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ناجائز منصوبے کی تیاری کر دے گا. اسلام میں معاف کرنا اتنا ہی اہم ہے جتنا عبادت کرنا, اسلام معافی کو صرف جذباتی عمل نہیں سمجھتا بلکہ معاشرے میں امن خوشحالی اور تمام خوبیوں سے بالاتر عمل سمجھتا ہے.
اخر میں اسلام ذمہ داری کی بات کرتا ہے، جتنا انسان زیادہ جانتا ہے اتنا ہی اس کے پاس غلطی کا کم بہانہ رہ جاتا ہے ،
ایک ماہر تاجر دھوکہ دے تو اس کا گناہ اور زیادہ ہے ،
ایک عالم اگر ظلم کرے تو اخرت میں اس کا اتنا ہی سخت حساب لیا جائے گا،
کیونکہ علم انسان کی ذمہ داری بڑھاتا ہے کم نہیں کرتا ،
اسی سوچ کی وجہ سے پرانے زمانے میں قاضی سالوں تربیت لیتے تھے، تاجر وزن اور پیمائش کے اصول یاد کرتے تھے، اور کاریگروں کو ان کے کام کے معیار سے پہچانا جاتا تھا، صرف دعووں سے نہیں۔
حضرت ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جب انسان صبح اٹھتا ہے تو جسم کے تمام اعضا زبان سے کہتے ہیں: ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ ہم تمہارے تابع ہیں۔ اگر تم سیدھے رہو گے تو ہم بھی سیدھے رہیں گے، اور اگر تم ٹیڑھے ہوگئے تو ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔”
آج کا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ علم کو صرف ڈگری اور سرٹیفکیٹ تک محدود کر چکے ہیں۔ ذہین نظر آنا سیکھ رہے ہیں لیکن دوسروں کے ساتھ جینا نہیں سیکھ رہے۔ اسلام نے اس خطرے سے بہت پہلے خبردار کر دیا تھا۔
اسلام کے مطابق اگر معاشرے میں ذہین لوگ ہوں لیکن مہارت نہ ہو تو معاشرہ کمزور ہو جاتا ہے۔ اور اگر مہارت ہو مگر اخلاق اور برداشت نہ ہو تو معاشرہ خطرناک بن جاتا ہے۔ اسلام میں علم حاصل کرنے کا اصل مقصد صرف کامیابی نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ علم ایک امانت ہے اور مہارت ایک اعتماد ۔
ایک سچے مسلمان ہونے کے ناطے اخر میں اپنے اپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ :
اپ کا علم اپ کو بڑا ادمی بنا رہا ہے یا بہتر انسان ؟
پڑھنے کا شکریہ! یہ پوسٹ عوامی ہے، اس لیے اسے شیئر کرنے میں آزاد محسوس کریں۔


