چند ہفتے پہلے جگنو (Jugnuu) سے کہا گیا کہ وہ کراچی میں اپنا گلزار کیمپس خالی کر دے۔
یہ کیمپس ایک ایسی جگہ بن چکا تھا جہاں طلبہ سیکھتے تھے، مشق کرتے تھے، سوال پوچھتے تھے اور اپنے لیے ایک مختلف مستقبل کا تصور کرنا شروع کر دیتے تھے۔
جب مکان کے مالک نے ہمیں جگہ خالی کرنے کا کہا تو ہم نے فوراً نئی جگہ کی تلاش شروع کر دی۔ تین ہفتوں تک ہم ایسی جگہ تلاش کرتے رہے جہاں والدین اور بچے آسانی سے پہنچ سکیں اور جس کا کرایہ جگنو برداشت کر سکے۔
لیکن کچھ بھی کام نہ آیا۔
ہر جگہ یا تو بہت مہنگی تھی، یا بہت دور، یا بہت چھوٹی، یا پھر دستیاب ہی نہیں تھی۔
پھر آخری تاریخ بھی آگئی۔
تین دن پہلے ہماری مہلت ختم ہوگئی، اور کلاسز کے بند ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔
اسی وقت ہماری بہترین طالبات میں سے ایک، آمنہ نے یہ بات اپنے والد کو بتائی۔
وہ جگنو ائے اور انہوں نے ہم سے ایک ایسی پیشکش کی جس کی ہم میں سے کسی کو توقع نہیں تھی-
انہوں نے کہا:
“اپ میرے گھر کو استعمال کر سکتے ہیں-”
انہوں نے بتایا کہ وہ سارا دن کام کرتے ہیں، اس لیے ان کی غیر موجودگی میں بچے وہاں بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں۔
ان کی صرف ایک درخواست تھی:
“کلاسز بند نہ کریں۔”
چنانچہ ہم نے وہاں لیپ ٹاپ منتقل کیے۔ پروجیکٹر لگائے۔ اور اس کمرے کو ان طلبہ کے لیے تیار کیا جو سیکھنے کے منتظر تھے۔
لیکن آج ہی ہمیں اس حقیقت کا مکمل علم ہوا۔
جو کمرہ انہوں نے ہمیں دیا تھا، وہ ان کے گھر کا واحد بیڈروم تھا۔
ان کا پورا خاندان اسی کمرے میں سوتا تھا۔
وہ کراچی کی سڑکوں پر رکشہ چلا کر اپنے گھر کا خرچ پورا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے پاس موجود سب سے قیمتی جگہ اپنی بیٹی اور اس کے ساتھی طلبہ کی تعلیم کے لیے پیش کر دی، تاکہ ان کی کلاسز کا سلسلہ نہ رکے۔
یہی وہ قربانی ہے جو ایک بچے کی زندگی بدل دیتی ہے۔
انہوں نے ایسے شخص کی طرح بات نہیں کی جس نے اپنی کوئی چیز کھو دی ہو۔
انہوں نے ایک ایسے والد کی طرح بات کی جو اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔
ان کے لیے یہ صرف ایک کمرہ دینا نہیں تھا۔
یہ اپنی بیٹی کے مستقبل میں سرمایہ کاری تھی۔
اور یہ ہر اس بچے کے مستقبل میں بھی سرمایہ کاری تھی جو اس کمرے میں بیٹھے گا، لیپ ٹاپ کھولے گا اور ایسی مہارتیں سیکھے گا جو اسے ایک بہتر زندگی بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
یہ سوچ کسی بھی کرائے کی عمارت سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
یہی وہ جذبہ ہے جو جگنو کو آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ یقین کہ صلاحیت ہر گلی، ہر محلے اور ہر گھر میں موجود ہے، لیکن مواقع ان بچوں تک ضرور پہنچنے چاہئیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
کسی بچے کو صرف اس لیے سیکھنے کا موقع نہیں کھونا چاہیے کہ کمرہ بہت مہنگا ہے، اسکول بہت دور ہے، یا اس کے خاندان کے پاس مناسب تعلقات نہیں ہیں۔
جگنو اس لیے موجود ہے تاکہ غربت کسی بچے کے مستقبل اور خوابوں کو نہ روک سکے۔
آج جگنوو کے پاکستان بھر میں 11 فعال کیمپس ہیں، جبکہ اگلے دو ماہ میں مزید 3 کیمپس شروع ہونے جا رہے ہیں۔
ہر کیمپس کے پیچھے ایک ہی سوچ ہے:
عملی مہارتوں کو براہِ راست کمیونٹی تک پہنچانا، بچوں کو ٹیکنالوجی تک رسائی دینا، اور انہیں یہ احساس دلانا کہ وہ صرف حالات کو دیکھنے والے نہیں بلکہ اپنے مستقبل کو بنانے والے ہیں۔
کچھ کیمپس ایک چھوٹی سی کلاس سے جنم لیتے ہیں،
کچھ کسی کی محبت سے دی ہوئی چھت تلے پروان چڑھتے ہیں،
اور کچھ اس یقین سے شروع ہوتے ہیں کہ
ایک والد اپنے بچے کے مستقبل کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونے دیتا۔
آمنہ کے والد نے ہم سب کے لیے ایک معیار قائم کر دیا ہے۔
انہوں نے اپنے گھر کا واحد بیڈروم اس لیے دے دیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی بیٹی کی تعلیم اس قربانی کے قابل ہے۔
انہوں نے وہ بات سمجھ لی جسے بہت زیادہ وسائل رکھنے والے لوگ بھی اکثر نہیں سمجھ پاتے:
ایک خاندان کی جانب سے کی جانے والی سب سے بڑی سرمایہ کاری اس کے بچے کے ذہن میں سرمایہ کاری ہے۔ آج رات کراچی میں کلاسز جاری ہیں۔ تعلیم کا سفر نہیں رکا۔
شکریہ کہ آپ نے یہ تحریر پڑھی۔
یہ تحریر عوامی طور پر دستیاب ہے، اس لیے اگر آپ چاہیں تو اسے دوسروں تک بھی ضرور پہنچائیں۔


